اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ کے مطابق، مذکورہ جملہ رہبر معظم انقلاب اسلامی کے اس بیان کا حصہ تھا جس میں انہوں نے تہران میں حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ عظیم مجاہد اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا تھا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی ایک بیان میں مزاحمت کی راہ میں ایران کے ساتھی اور مستقل دوست، فلسطینی مزاحمت کے بہادر رہنما اور شہید قدس اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران شہید ہنیہ کے قتل پر دہشت گرد اسرائیل سے ضرور بدلہ لے گا۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے شہید اسماعیل ہنیہ کے بہیمانہ قتل کے بارے میں جاری کردہ دوسرے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ طاقتور محاذ مزاحمت بالخصوص اسلامی ایران کی جانب سے صہیونی ریاست کو اس جرم کا سخت اور دردناک جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ غزہ کے خلاف نو ماہ سے جاری جنگ کی شرمناک ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش صہیونی ریاست کی دہشت گردی کی پالیسی پر واپسی کی بنیادی وجہ ہے، تہران میں شہید ہنیہ اور بیروت کے جنوبی مضافات میں فؤاد شکری (سید محسن) کا بیک وقت قتل اور عراق کے علاقے جرف الصخر میں الحشد الشعبی کے ٹھکانوں پر حملے ان ناکامیوں اور جعلی اسرائیلی ریاست کی دہشت گردی اور مجرمانہ نوعیت کی نشانیاں ہیں۔
لیکن جو چیز شہید ہنیہ کے قتل کے جرم کو دوسرے دو جرائم سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ جرم تہران میں ہؤا ہے اور یہ شہید ایران کے مہمان تھے، لہٰذا یہ دونوں اجزاء ایران کو اپنی سرزمین پر اسرائیل کی کھلی جارحیت کے جواب میں اپنے مہمان کے خون کا بدلہ لینے اور جعلی صہیونی ریاست کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنے، پر مجبور کرتے ہیں۔
یقینا اگر نیتن یاہو نے امریکہ کی حمایت پر انحصار نہ کیا ہوتا تو وہ اس جرم کا ارتکاب نہ کرتا اور اس انحصار نے اس کو اس جرم کے ارتکاب کی ترغیب دی کیونکہ وہ اس غلط فہمی کا شکار تھا کہ ایران یا تو جوابی کارروائی کرنے سے ہچکچائے گا یا ڈرامائی انداز میں اس کا جواب دے گا اور صرف صہیونی ریاست کے دفاع کے لئے جنگ میں براہ راست امریکی مداخلت کے خوف سے اپنی ساکھ بچانے پر اکتفا کرے گا۔
لیکن صہیونی ریاست نے اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا کہ ایران کسی بھی ایسے فریق کو کبھی معاف نہیں کرتا جو اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرے گا اور اس کے مہمانوں کو قتل کرے گا، اور ضرورت پڑنے پر امریکہ کے ساتھ براہ راست فوجی محاذ آرائی کے مرحلے تک بھی جانے سے نہیں ہچکچائے گا۔
یقینا اسماعیل ہنیہ جیسی اہم، جرأت مند اور صبر کرنے والی شخصیت کا انتقال محاذ مزاحمت کے لئے ایک بہت بڑا نقصان ہے، لیکن محاذ مزاحمت ان کے ساتھیوں سے بھرا پڑا ہے جو ان کی غیر موجودگی کا ازالہ اور ان کی شہادت سے معرض وجود میں آنے والے خلا کو پر کریں گے۔
فلسطینی حماس اور جہاد اسلامی، حزب اللہ لبنان، انصار اللہ یمن اور اور عراقی الحشد الشعبی جیسے مزاحمتی گروہوں نے القدس شریف کی خاطر اپنے بہترین بیٹوں کو قربان کر دیا ہے، لیکن انہوں نے کبھی بھی دشمن کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی سے اپنی ایک ملاقات میں شہید ہنیہ نے فرمایا: اگر ہم میں سے کوئی عظیم شخص چلا جائے تو ایک اور عظیم شخصیت پیدا ہو جائے گی۔
ہمارے عزیز، عظیم، بہادر اور صبر کرنے والے شہید اسماعیل ہنیہ نے کہا تھا کہ جہاد کا نتیجہ فتح ہے یا شہادت، اس لئے ایران بھی اس سے کہتا ہے کہ ہم اپنے مہمان کے قاتل سے بدلہ لیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
110